جنوبی اضلاع میں خوف کی فضا ، لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے،گورنرفیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ صوبے کے حالات ٹھیک نہیں، سیکیورٹی فورسز پر حملے معمول بن گئے ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں گورنرخیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گرد حملے کے دوران پولیس جوانوں نے جان پر کھیل کر ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا، جبکہ وانا میں پاک فوج نے بڑا نقصان ہونے سے بچایا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر کو شہید کر دیا گیاجبکہ پولیس اور پاک فوج کے جوان روزانہ اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ سابق اور موجودہ دونوں وزرائے اعلیٰ کو بارہا کہہ چکے ہیں کہ امن و امان اولین ترجیح ہونی چاہیے، مگر عملی اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق جنوبی اضلاع میں خوف کی فضا ہے اور لوگ شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دشمن کو چار گنا بڑا ہونے کے باوجود شکست دے چکا ہے، مگر اب دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ “ہم نے بار بار افغانستان سے کہا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، مگر کسی قسم کے عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔”

یہ بھی پڑھیں : برطانیہ نے معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ڈی پورٹ کر دیا

گورنر نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آپریشن کی مخالفت کرتی ہے، جبکہ حالات اس کے برعکس فوری اقدامات کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اگر فوج صوبے سے نکل گئی تو آپ لوگ ایک دن بھی صوبے کو نہیں سنبھال سکیں گے۔”

انہوں نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا کہ وزیراعلیٰ کو ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ امن ہوگا تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “پولیس اور سی ٹی ڈی کی اپ گریڈیشن کے لیے صوبائی حکومت نے کیا کیا؟”

گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ہزاروں مریض علاج کے لیے سندھ جاتے ہیں، جو صحت کے شعبے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور حکومت کو الگ رکھنا ہوگا، گالم گلوچ کی سیاست نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کچھ سیاستدانوں کی ٹویٹس بھارتی میڈیا میں دکھائی جاتی ہیں، جو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کو تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی شخصیات سے ہوسکتی ہے مگر اداروں کے خلاف نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ریاست کی بات کی، مگر بدقسمتی سے بلدیاتی نمائندوں کو آج تک اختیارات نہیں دیے گئے۔ ضم شدہ اضلاع کے لیے بھی اب تک خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔

گورنر نے سیاسی عدم برداشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ کی سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی، آج انہی کے پاس جا کر مدد مانگی جا رہی ہے۔”

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارا صوبائی سیکرٹریٹ تو اڈیالہ منتقل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ وہاں روزانہ بیٹھے ہوتے ہیں، عدالتوں اور سڑکوں پر سیاست کر کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑنا چاہیے، سڑکوں پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان بیانات کا تضاد عوام کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ وفاق کہتا ہے ہم نے پیسے دیے، صوبہ کہتا ہے کچھ نہیں ملا۔ ہم دونوں کے درمیان فٹبال بن چکے ہیں۔

Scroll to Top