سینیٹرخرم ذیشان کے گھر پر حملہ، خیبرپختونخوا پولیس سیکیورٹی دینے میں ناکام

پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں20سے 25 مسلح افراد کی جانب سےپی ٹی آئی کے سینیٹرخرم ذیشان کے گھر پر ہونے والے حملے نے خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے۔

زرائع کے مطابق18گھنٹے گزرنے کے باوجود پولیس مسلح ملزمان کو گرفتار کرنے یا ان کی شناخت کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔

پولیس کاکہنا ہے کہ یہ واقعہ رات ڈھائی بجے کے لگ بھگ پیش آیا ہے جب چار سے پانچ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے خرم ذیشان کی رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اس دوران فائرنگ کی۔

پولیس کے مطابق شدید فائرنگ کے نتیجے میں مکان میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اسے نقصان پہنچا۔

جس وقت یہ حملہ ہوا اُس وقت سینیٹر خرم ذیشان گھر پر موجود نہیں تھے۔

پشاور کے پولیس افسر فرحان خان نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حملہ آور کون تھے تاہم اس بارے میں رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سینیٹر خرم ذیشان کا کہناتھا کہ کہ یہ اُن کے سسر کا مکان ہے جہاں وہ اُن کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔اس واقعے کی ایف آئی آر اُن کے کزن کی مدعیت میں درج کروائی گئی ہے۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پانچ گاڑیوں میں لگ بھگ 20 سے 25 افراد آئے تھے اور ان کی فائرنگ سے ان کے ایک ملازم کو کمر میں گولی لگی ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوا ہے۔

Scroll to Top