اسلام آباد: نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے مطابق سال 2025 کی آخری ملک گیر پولیو مہم 15 تا 21 دسمبر منعقد کی جائے گی۔
جس میں ملک بھر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اور انہیں زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ بنایا جائے گا۔
پولیو مہم میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔
صوبائی سطح پر یہ تعداد کچھ یوں ہوگی: پنجاب میں 2 کروڑ 30 لاکھ، سندھ میں 1 کروڑ 6 لاکھ، خیبرپختونخوا میں 72 لاکھ، اور بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 28 ہزار اور آزاد جموں و کشمیر میں 7 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے دیے جائیں گے۔
نیشنل ای او سی نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔
ساتھ ہی 15 ماہ تک کے تمام بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں ہیلتھ ایمرجنسی، اسپتالوں میں علاج کی سہولیات بہتر بنانے کا اعلان
جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
یہ اعلان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع اللہ جان نے کیا۔
شفیع اللہ جان کے مطابق ہیلتھ ایمرجنسی کا بنیادی مقصد اسپتالوں میں سہولیات کو بہتر بنانا، علاج تک رسائی کو آسان کرنا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔
صوبے میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت عوام سرکاری و نجی اسپتالوں میں مختلف امراض کا مفت علاج اور آپریشنز کروا سکتے ہیں، جبکہ او پی ڈی میں مفت علاج اور ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
پشاور کے تین بڑے تدریسی اسپتالوں میں مجموعی طور پر 4720 بیڈز دستیاب ہیں، جن میں لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 1870، خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 1600 اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 1250 بیڈز شامل ہیں۔





