پشاور: خیبرپختونخوا میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں سال بھر میں 14 اضلاع میں مجموعی طور پر 1588 دہشت گردی کے کیسز رپورٹ ہوئے اور مختلف مقدمات میں 7 ہزار 111 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔
محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دہشت گردی کے کیسز ضلع بنوں میں سامنے آئے، جہاں 394 مقدمات درج کیے گئے۔
شمالی وزیرستان میں 181، پشاور میں 163، اور ڈی آئی خان میں 152 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
سی آئی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں 3 ہزار 437 افراد دہشت گردی کے مقدمات میں نامزد ہیں، شمالی وزیرستان میں 887، جبکہ ڈی آئی خان میں 865 ملزمان دہشت گردی کے مقدمات میں شامل ہیں۔
دیگر اضلاع میں بھی دہشت گردی کے مختلف واقعات پیش آئے اور کئی ملزمان گرفتار یا زیر تفتیش ہیں۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کے حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات جاری ہیں اور سی آئی ڈی، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی ادارے ریاست کے قانون کے تحت دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی مظاہرین کا پولیس پر پتھراو، واٹر کینن استعمال، شاہد خٹک کی ٹانگ ٹوٹ گئی
سیکیورٹی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دی جائے تاکہ دہشت گرد عناصر کے منصوبے بروقت ناکام بنائے جا سکیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے یہ اعداد و شمار صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کی نوعیت کی نشاندہی کرتے ہیں، اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بنوں اور شمالی وزیرستان جیسے اضلاع میں سیکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔





