اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی چینجرز کے لیے غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت سے متعلق نئی اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے سال کے آغاز سے فارن ایکسچینج کا کاروبار ایک نئے نظام کے تحت چلایا جائے گاجس کے تحت کرنسی خریدنے یا فروخت کرنے والے افراد کی شناخت کی تصدیق نادرا کے ذریعے کی جائے گی۔
منی چینجرز کو صارف کی بائیومیٹرک کو وزارت داخلہ سے ویری فائی کرنے کے پابند کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟جانئے
ہدایات میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ منی چینجرز اپنی دکانوں پر ایسے ہائی ریزولوشن کیمرے نصب کریں جو صارف کی شناخت کی مکمل ریکارڈنگ کر سکیں۔ یہ کیمرے نادرا کے سسٹم سے منسلک ہوں گے تاکہ ہر ٹرانزیکشن کی تصدیق محفوظ طریقے سے ممکن ہو سکے۔
ای کیپ کے مطابق صارف کی بائیومیٹرک ویری فکیشن براہِ راست وزارتِ داخلہ کے سسٹم سے منسلک ہوگی۔
سرکلر میں منی چینجرز کو واضح طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ نئے قوانین پر یکم جنوری سے لازمی عمل درآمد کیا جائے۔
ای کیپ کے جنرل سیکریٹری نے بتایا کہ نئی ہدایات موصول ہونے کے بعد نادرا کو اس حوالے سے باقاعدہ خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔





