افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغان علماء کا بڑا فیصلہ

کابل: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں طالبان سے منسلک مذہبی علماء کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا، جس میں ملک کے تمام 34 صوبوں سے ایک ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ قرارداد میں واضح اعلان کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی یا مسلح کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور کسی بھی افغان شہری کو بیرونِ ملک جہاد کے لیے روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی افغان شہری کو جہاد یا کسی مسلح سرگرمی کے لیے افغانستان سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موقف پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی تائید کرتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس قرارداد کو محتاط امید کے ساتھ قبول کیا ہے، تاہم اصل امتحان اس فیصلے پر عملی طور پر مکمل عمل درآمد ہوگا، کیونکہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے وعدے کیے گئے لیکن مؤثر نتائج سامنے نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں بڑا کریک ڈاؤن! غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں میں سے 31 ہزار سے زائد افراد ڈی پورٹ

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد پاکستان کے اصولی اور مستقل موقف کی بھی توثیق کرتی ہے، جو ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان کو اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں سے پاک رکھنی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق طالبان حکومت مذہبی بنیاد پر اپنی پالیسی میں تبدیلی کا راستہ تلاش کرتی دکھائی دیتی ہے، اور یہ مذہبی فیصلہ انہیں اس تبدیلی کے لیے ایک مضبوط اخلاقی جواز بھی فراہم کرتا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حکومت واقعی اس پالیسی پر عمل پیرا ہوتی ہے تو سرحدی علاقوں میں دیرپا استحکام اور معاشی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

مگر اصل کامیابی تب ہی ممکن ہے جب طالبان حکومت زمینی سطح پر واضح نگرانی، سخت کارروائی اور مسلسل تصدیقی عمل کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ سرحد پار دہشت گردی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Scroll to Top