اسلام آباد: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے حوالے سے فیصلہ زیر غور ہے اور معاملہ اب عملی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاملے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ہر فریق کو آگاہ کیا جا سکے۔
اختیار ولی خان نے اڈیالہ روڈ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بانی کی بہنوں کے حقوق کی بات تو کی جاتی ہے، مگر اڈیالہ کے باہر بسنے والے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
کئی گھنٹے سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے کوئی لاٹھی چارج نہیں کیا، صرف واٹر کینن کا استعمال ہوا، اور اداروں کے ساتھ ایسے رویے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
تاہم اڈیالہ معاملے میں حکومت کا تعلق نہیں، بلکہ یہ وہاں کی انتظامیہ کا اختیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت نے اسپیکر ہاؤس میں مذاکرات کی پیشکش کی مگر پی ٹی آئی قیادت نے مسترد کر دیا، رانا ثنا
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روڈ کئی گھنٹے بند رکھی گئی تو پولیس کو اسے کھلوانے کے لیے حرکت میں آنا پڑے گی، کیونکہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔
اختیار ولی خان نےمزید کہا کہ گورنر راج کے نفاذ سے متعلق امور اب زیر غور ہیں اور جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور گورننس متاثر ہو، وہاں آئین کے تحت گورنر راج لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی جماعت پر پابندی لگانے کے تمام قانونی نکات پورے کیے جا چکے ہیں اور خیبرپختونخوا کو کسی صورت کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتے۔





