خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کی ناقص قرار دی گئی 3 بلٹ پروف گاڑیاں اب تک واپس نہیں کیں

خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کی ناقص قرار دی گئی 3 بلٹ پروف گاڑیاں اب تک واپس نہیں کیں

سہیل آفریدی کی ہدایت پر 3 ناقص بلٹ پروف گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کے پاس برقرار، وفاق کی تنقید کے باوجود اقدام جاری

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہائی رسک علاقوں میں پولیس افسران کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے فراہم کی گئی 3 بلٹ پروف گاڑیاں اب تک واپس نہیں کی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ گاڑیاں وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر بھیجی گئی تھیں، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے انہیں پرانی اور ناقص قرار دے کر واپس کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد یہ گاڑیاں ابھی تک خیبرپختونخوا پولیس کے پاس موجود ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ایسی گاڑیاں رکھنا نہ صرف صوبے بلکہ پولیس کی توہین ہوگی، جس پر وفاق نے وزیراعلیٰ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی تھی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر کے پی کو یہ گاڑیاں نہیں چاہیے تو انہیں بلوچستان منتقل کر دیا جائے۔

دوسری جانب، کے پی پولیس نے اپنی سکیورٹی اور صلاحیت بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر نئی بکتر بند گاڑیوں کی خریداری شروع کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 46 ڈالے بکتر بند بنانے کے لیے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 13 گاڑیاں ہیوی مکینیکل انڈسٹریز (ایچ ایم آئی) سے موصول ہو چکی ہیں۔ مزید 20 بکتر بند ڈالے اس ماہ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ایچ ایم آئی کو مزید گاڑیوں کو بکتر بند بنانے کا الگ آرڈر بھی دیا گیا ہے، جن میں سے 20 گاڑیاں تیار ہو چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، کے پی حکومت کا یہ اقدام صوبائی پولیس کی استعداد کار بڑھانے اور ہائی رسک علاقوں میں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اہم ہے، تاہم وفاق اور صوبے کے درمیان اس معاملے پر جاری اختلافات مستقبل میں بھی تنازع کا سبب بن سکتے ہیں۔

Scroll to Top