وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمیدفیصلے میں شفافیت، فیض حمید کو اپنے دفاع کے تمام حقوق دیے گئے
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا الزام ثابت ہوا اور فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیض حمید کو اپنے دفاع کے تمام حقوق فراہم کیے گئے، جس میں اپنی منتخب وکلاء ٹیم کے ذریعے دفاع کرنے کا حق بھی شامل تھا۔
عطاتارڑ نے مزید کہا کہ’’ریڈلائن کراس کرنے والے شخص کو سزا ہوئی ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ فیض حمید ایڈوائزر کے طور پر سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی مدد کرتے رہے، مگر فوج میں خود احتسابی کا عمل انتہائی مضبوط ہے اور یہ فیصلہ اسی کا ثبوت ہے۔‘‘
وزیراطلاعات نے کہا کہ آج کے تاریخی فیصلے سے حق اور سچ کی فتح ہوئی اور یہ اقدام قانون کی حکمرانی اور انصاف کے معیار کو واضح کرتا ہے۔
واضح رہے کہ فوجی عدالت نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز ہوا، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ عدالت نے 11 دسمبر 2025 کو تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزم کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔





