قوم برسوں فیض حمید اور جنرل باجوہ کے فیصلوں کے نتائج بھگتے گی، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قوم برسوں فیض حمید اور جنرل باجوہ کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی

تفصیلات کے مطابق وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں، بلکہ یہ سابقہ عسکری و سیاسی قیادت کی پالیسیوں اور فیصلوں کا طویل المدتی نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’قوم برسوں فیض حمید اور جنرل باجوہ کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔‘‘

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں طاقت اور اختیار کو اپنی عطا سمجھ کر عوام کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ انہوں نے دعا کی کہ’’خوفِ خدا حکمرانوں کا شیوہ بنے، آمین۔

فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزاوزیر دفاع کے اس بیان سے قبل سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے خلاف کارروائی 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع کی گئی۔فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل 15 ماہ تک جاری رہا۔ملزم پر 4 سنگین الزامات عائد کیے گئے، جن میں سرکاری اختیارات کا غلط استعمال، سرکاری وسائل کی بدعنوانی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور افراد کو نقصان پہنچانے جیسے امور شامل تھے۔عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو قصوروار قرار دے کر 14 سال قید کی سزا سنائی۔

سیاسی و عسکری فیصلوں کے اثرات نسلوں تک رہیں گے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والے فیصلوں نے نہ صرف جمہوری نظام بلکہ قومی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں کی وجہ سے اداروں کا توازن بگڑا، سیاسی عدم استحکام بڑھا اور ملک کی ساکھ کو عالمی سطح پر بھی دھچکا پہنچا۔

وزیر دفاع کے مطابق قوم آج جن مشکلات کا سامنا کر رہی ہے وہ چند افراد کے ذاتی مفادات اور غیرذمہ دارانہ فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ملک کی سیاسی سمت کو غلط موڑ دینے میں اُس وقت کی عسکری قیادت کا کردار اب واضح ہو چکا ہے۔مستقبل میں ایسی مداخلتوں کو روکنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔خواجہ آصف کا بیان اس پس منظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے کہ فیض حمید کا کیس حالیہ برسوں کا سب سے بڑا فوجی احتساب تصور کیا جا رہا ہے، جس نے سیاسی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top