گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ فیض حمید کو 14 سال کورٹ مارشل ہوا، جو ریکارڑ پر ثبوت آئے اس بنا پر سزا ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ اگر کوئی اور بھی معاملات میں ملوث ہوا تو اسے بھی قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب سب کے لیے ہے اور ریاست کسی فرد یا عہدے کی وجہ سے کمزور نہیں پڑے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’’فیض حمید کو 14 سال کی سزا ریکارڈ پر موجود ثبوتوں کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عدالت نے بلاضرورت کسی بات کو اہمیت نہیں دی، صرف ثبوتوں پر فیصلہ دیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید کے ایک فیصلے جسے انہوں نے ’چائے کی پیالی‘ قرار دیانے پورے صوبے اور ملک کو بھاری نقصان پہنچایا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ جب سیاسی رہنماؤں کو سزا مل سکتی ہے تو جرنیل کو بھی قانون کے نیچے آنا ہوگا۔ ’’سب سے اہم ریاست ہے، کوئی اوپر سے اترنے والی مخلوق نہیں جسے قانون سے استثنیٰ ملے‘‘، انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی سیکریٹریٹ اڈیالہ جیل منتقل ہوچکا ہے، جہاں سے صوبہ چلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سیکرٹریز اس بات پر پریشان ہیں کہ کس کی بات مانیں اور کس کی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو کسی اور مقام پر منتقل کرے تاکہ عوام کو سکھ کا سانس آئے۔ گورنر نے مزید کہا کہ اگر صوبائی حکومت اداروں کے ساتھ مل کر امن و امان کے لیے کام کرے تو ہر مسئلہ بہتر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے طنزیہ سوال اٹھایا کہ جو لوگ اداروں کے اجلاسوں میں بلانے پر بھی نہیں آتے تھے، آج کس حیثیت سے آرمی کانفرنس کی دعوت دے رہے ہیں؟
گورنر کنڈی نے واضح کیا کہ ریاست اور اداروں کے خلاف کسی بھی سازش یا قانون شکنی پر سخت کارروائی کی جائے گی، خواہ وہ کسی سابق جرنیل کی ہو یا کسی سیاسی رہنما کی۔





