ساجد ٹکر
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے جنرل فیض حمید کو سنائی گئی سزا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل فیض کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ چائے کا کپ پکڑ کر کابل میں چالیس ہزار دہشتگردوں کو منظم کرنے والا آج بھی بے حساب ہے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ پختونوں کی دوبارہ نسل کشی کی کوشش پر بھی فیض سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق فیض۔ باجوہ۔ عمران گٹھ جوڑ کے تمام “فیضیاب” آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : فیض ،عمران گٹھ جوڑ! پاکستان کو عدم استحکام کی سازش کا پردہ فاش
انہوں نے کہا کہ پوری ایک نسل کو اپنے ہی سیاسی مشران کا دشمن بنایا گیا اور قوم کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے سارے مشران چور ہیں جبکہ صرف ایک شخص کو مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا۔
ایمل ولی خان کے مطابق وفاق اور پنجاب نے تبدیلی کے چار سال انجوائے کیے، لیکن نقصان سب سے زیادہ پختونوں نے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تیسری بار کی گئی انجینئرنگ نے صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک پورے گٹھ جوڑ کا احتساب نہیں ہوتا، ملک میں امن اور انصاف ممکن نہیں۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پختونوں کے خلاف سازشیں بے نقاب کیے بغیر حالات درست نہیں ہوں گے۔





