چینیوٹ: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کو دی گئی سزا کا فیصلہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے اور یہ پیغام ہے کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔
بلاول نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید دونوں اپنے وقت کے فرعون تھے۔
میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی طاقت کے نشے میں دھمکیاں دیا کرتے تھے اور آج مکافاتِ عمل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید نے بھی طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزیاں کیں، اور آج بانی پی ٹی آئی خود جیل میں ہیں جبکہ جنرل فیض حمید کو سزا مل چکی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی، لیکن پی ٹی آئی خود ایسے حالات پیدا کر رہی ہے کہ وفاقی حکومت مجبور ہوکر سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیض حمید کے ساتھ ملوث افراد بھی سزا سے نہیں بچیں گے، گورنر خیبرپختونخوا
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ فیض حمید کو 14 سال کورٹ مارشل ہوا، جو ریکارڑ پر ثبوت آئے اس بنا پر سزا ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ اگر کوئی اور بھی معاملات میں ملوث ہوا تو اسے بھی قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب سب کے لیے ہے اور ریاست کسی فرد یا عہدے کی وجہ سے کمزور نہیں پڑے گی۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ’’فیض حمید کو 14 سال کی سزا ریکارڈ پر موجود ثبوتوں کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عدالت نے بلاضرورت کسی بات کو اہمیت نہیں دی، صرف ثبوتوں پر فیصلہ دیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید کے ایک فیصلے جسے انہوں نے ’چائے کی پیالی‘ قرار دیانے پورے صوبے اور ملک کو بھاری نقصان پہنچایا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ جب سیاسی رہنماؤں کو سزا مل سکتی ہے تو جرنیل کو بھی قانون کے نیچے آنا ہوگا۔ ’’سب سے اہم ریاست ہے، کوئی اوپر سے اترنے والی مخلوق نہیں جسے قانون سے استثنیٰ ملے‘‘، انہوں نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔





