ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ اغوا و قتل کیس کی تفتیش کے سلسلے میں تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مقتولہ کے گھر کا دورہ کیا۔
8 رکنی جے آئی ٹی ٹیم نے اہل خانہ سے ملاقات کی، جے آئی ٹی نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کے ساتھ کیس سے متعلق اہم معلومات اور شواہد حاصل کیے۔
جے آئی ٹی کے ارکان نے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ تفتیش شفاف انداز میں جاری ہے اور رپورٹ پانچ دن کے اندر مکمل کر کے متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی۔
مقتولہ کے اہل خانہ نے تحقیقات کے اہم نکات اور اپنے تحفظات بھی جے آئی ٹی کے سامنے رکھے۔
جے آئی ٹی میں خیام حسن، ایڈیشنل آئی جی سونیا شمعروز سمیت دیگر اعلیٰ افسران شامل ہیں اور ٹیم نے تفتیش کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
متاثرہ خاندان کو جے آئی ٹی کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ملزمان کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈاکٹر وردہ کیس،صوبائی حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دیدی
واضح رہے صوبائی حکومت نے ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) تشکیل دی ہے۔
تین روز پہلے صوبائی حکومت نے ڈاکٹر وردہ مشتاق قتل کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی منظوری سے خط چیف سیکرٹری کو ارسال کر دیا گیاتھا۔
خط میں کیس کی حساسیت اور عوامی غم و غصے کے باعث جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ، جے آئی ٹی کی سربراہی صوبائی حکومت کے سینئرسول افسر کے سپرد کرنے کی تجویز کی گئی۔
خط میں جے آئی ٹی میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ایبٹ آباد پولیس اور پراسیکیوشن کی شمولیت کی سفارش کی گئی ۔





