قومی علماء و مشائخ کانفرنس،علماء کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی، عسکری قیادت کو خراج تحسین

قومی علماء و مشائخ کانفرنس میں علماء نے پاک فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اور عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں قومی علماء و مشائخ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے معروف علماء نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

کانفرنس کا مرکزی موضوع قومی یکجہتی، دہشت گردی کے خاتمے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون رہا۔

مفتی عبدالرحیم سربراہ جامعہ رشید نے اپنے خطاب میں پاک فوج سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا اور عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی و عسکری قیادت کا اتحاد ناگزیر ہے اور قوم کو اس پر شکرگزاری کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار اہم ہے اور خیبرپختونخوا و بلوچستان میں مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے سدباب کے لیے علماء کو مزید مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

مفتی عبدالرحیم نے افغانستان سے یہ بھی اپیل کی کہ پاکستان کے شہریوں کے خلاف حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں اور علاقائی امن کے لیے تعاون بڑھایا جائے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت فوج کا جبکہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے، انہوں نے مدارس کے طلبہ کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: اللہ تعالی نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظین حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل نے پاک فوج کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی مذمت کی۔

علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری جمعیت اہلحدیث نے کہا کہ موجودہ عسکری قیادت میں فوج نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کسی کو بھی فوج کے خلاف منفی بیانیہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پیر حسن حسیب الرحمان نے خطاب میں کہا کہ علماء اسلام اور پاکستان کی سربلندی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے پیغامِ پاکستان کو قانون کا حصہ بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں امن، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے علماء کا باہمی تعاون اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Scroll to Top