یہ دوا اب نہ کھائیں،ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے بڑی وارننگ

امریکا میں بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے استعمال کی جانے والی معروف دوا زیئک (Ziac) کو ہنگامی بنیادوں پر مارکیٹ سے واپس بلالیا گیا ہے۔

صحت حکام کے مطابق دوا کے کچھ بیچز میں کراس کنٹیمنیشن یعنی کسی دوسری دوا کی غیر ارادی آمیزش کا خدشہ سامنے آیا ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے تصدیق کی ہے کہ گلین مارک فارماسیوٹیکلز کے ابتدائی ٹیسٹوں میں دوا کے نمونوں میں حیران کن طور پر کولیسٹرول کم کرنے والی دوا ایزٹیمائب (Ezetimibe) کے ذرات پائے گئے، جس کے بعد کمپنی نے فوری طور پر دوا واپس منگوانے کا فیصلہ کیا۔

زیئک دو مختلف اجزا بسوپروول فومیریٹ اور ہائیڈروکلورتھائیازائیڈپر مشتمل ہے اور یہ بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور بعض قلبی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ ایزٹیمائب بذاتِ خود ایک مستند دوا ہے، لیکن اس کی غیر ارادی آمیزش مریض کے موجودہ علاج کے شیڈول میں مداخلت کر سکتی ہے، اس لیے ریکال کو ناگزیر سمجھا گیا۔

FDA نے اس ریکال کو کلاس تھری ریکال قرار دیا ہے جو نسبتاً کم خطرے والی کیٹیگری ہوتی ہے تاہم احتیاط کے طور پر دوا کو مارکیٹ سے ہٹانا ضروری سمجھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان آرمی نے 35ویں نیشنل گیمز کی ٹرافی جیت لی

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی جس میں اس آمیزش سے کسی مریض کی صحت پر براہِ راست نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہو۔

اس کے باوجود ماہرین نے زیئک استعمال کرنے والے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی دوا کا بیچ نمبر چیک کریں اور کسی شبے کی صورت میں ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رابطہ کریں۔

گلین مارک فارماسیوٹیکلز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ مکمل شفافیت کے ساتھ معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور مستقبل میں اس قسم کی صورتحال سے بچنے کیلئے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مریضوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

Scroll to Top