ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر چندہ جمع کرنےاور قانونی اخراجات سے متعلق سنگین الزامات عائد کر دیئے ہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےشیر افضل مروت نے کہا ہے کہ 26 نومبر کے نام پر 38 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے مگر اُس رقم کا کوئی باقاعدہ حساب سامنے نہیں آیا جبکہ یہ فنڈز مبینہ طور پر علیمہ خان اور خدیجہ شاہ کے زیر انتظام تھے اور اب تک واضح نہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔
انہوں نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان کیلئے عملی طور ایک ہی وکیل ہیں جو کہ سلمان صفدر ہیں جنہیں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 24 کروڑ روپے ادا کیے جبکہ مجموعی طور پر وکلا کو ایک ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔
شیر افضل مروت کے مطابق پارٹی کے اندر قانونی نمائندگی کے معاملات میں بھی کمیشن اور مالی بے ضابطگیوں کے عناصر موجود ہیں۔اور آپ کو یہاں ہر چیز میں بددیانتی اور بےایمانی نظر آئیگی۔
شیر افضل مروت نے بتایا کہ میں نے ان معاملات پرآواز اٹھائی اور اسی وجہ سے مجھے نشانہ بنایاگیا،کوئی بتا دیں کہ دو تین سال سے فنڈز خرچ ہورہے ہیں کیا ان کا اڈٹ ہوا ہے،جن لوگوں نے پارٹی پر اعتماد کرتے ہوئے فنڈز بیجھے ہیں انھیں بتائیں کہ ان کے پیسے درست جگہ لگائے گئے ہیں ۔
چھبیس نومبر کے نام پر 38 کروڑ روپیہ اکٹھا ہوا جس کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ اس کو علیمہ خان اور خدیجہ شاہ مینج کررہی تھیں، اس پیسے کا پتہ ہی نہیں وہ پیسے کدھر گئے۔
عمران خان کا صرف ایک ہی وکیل ہے جس کا نام سلمان صفدر ہے جسے علی امین گنڈاپور نے 24 کروڑ روپے ادا کیے، یہ صرف ایک رقم… pic.twitter.com/llF5nu88iY— Raza Butt (@SocialDigitally) December 13, 2025





