مشیرِ خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ این ایف سی کے حوالے سے آٹھ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن میں ڈویزیبل پول کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے جبکہ ورٹیکل اور ہاریزنٹل ڈسٹری بیوشن کمیٹی کی قیادت بلوچستان کے پاس ہوگی، فاٹا مرجر اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی کمیٹیوں کو خیبرپختونخوا ہیڈ کرے گا۔
خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کی شرح نمو گزشتہ سال تاریخ کی کم ترین سطح پر رہی، بیروزگاری 7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور رواں سال بھی شرح نمو میں کمی کا خدشہ ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر ہوچکا ہے اور موجودہ معاشی ماڈل 25 کروڑ عوام کے لیے قابل عمل نہیں، معاشی بدحالی کی بڑی وجہ ہائی ٹیکس ریٹ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی دوسری جائزہ رپورٹ آچکی ہے جس کے تحت 54 شرائط کے بعد مزید 11 نئی شرائط عائد کی گئی ہیں، چینی سے بنی اشیا پر ایف ای ڈی لگے گی، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جس کا 80 فیصد بوجھ عوام برداشت کر رہے ہیں، اینٹی کرپشن کے ملازمین کو اپنے اثاثے پبلک کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس پالیسی اور گورننس پر سنجیدگی سے بات کرنی چاہیے، آئی ایم ایف کے مطابق ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا مگر آئندہ پانچ چھ سال تک سخت معاشی حالات رہیں گے، 2026 میں غربت، مہنگائی اور ٹیکسوں میں مزید اضافہ ہوگا، مہنگائی جون میں 8.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے اور بجلی عام لوگوں کے لیے مزید مہنگی ہوگی۔
مزمل اسلم نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پنجاب میں 51 لاکھ، سندھ میں 26 لاکھ، خیبرپختونخوا میں 22 لاکھ، بلوچستان میں 4 لاکھ اور اسلام آباد میں 21 ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ ایک تازہ سروے کے مطابق پولیس اور سرکاری افسران کی رشوت سے متعلق شکایات سب سے زیادہ سندھ اور پنجاب میں ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کرپشن انڈیکس میں سب سے نیچے ہے، خیبرپختونخوا کی دستک ایپ نے عالمی سطح پر بہترین گورننس ایپ کا ایوارڈ جیتا ہے۔





