سوات: خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے ضلع سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے صوبائی کابینہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سوات کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
صوبائی وزیر نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ ضلع سوات کو دو حصوں یعنی سوات اور بر سوات میں تقسیم کرنا دیرینہ عوامی مطالبہ تھا، جسے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے عملی جامہ پہنایا ہے۔
ڈاکٹر امجد علی نے بتایا کہ ضلع سوات کی آبادی اس وقت 27 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث بر سوات کے عوام کو سرکاری امور اور بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے مینگورہ کا رخ کرنا پڑتا تھا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے باعث مینگورہ میں ہسپتالوں اور دیگر سرکاری اداروں پر بھی بوجھ پڑ رہا تھا۔
صوبائی وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے بر سوات کے عوام کو اب گھر کی دہلیز پر تمام سرکاری خدمات اور سہولیات میسر ہوں گی، جس سے نہ صرف عوام کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ انتظامی نظام بھی مزید مؤثر ہوگا۔
ڈاکٹر امجد علی نے بتایا کہ سوات کے منتخب اراکین اسمبلی نے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی، جبکہ کابینہ نے بعض امور پر ابہام دور کرنے کے لیے اراکین اسمبلی اور متعلقہ سرکاری افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی جامع رپورٹ آج کابینہ کے سامنے پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں : نئی ٹیکنالوجی آگئی، ملک بھر کے کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی آرائ اور تجاویز کی روشنی میں تحصیل چارباغ کو سوات کے ساتھ برقرار رکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بر سوات کے لیے نل کے مقام پر مزید سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں گے جبکہ مٹہ میں موجود دفاتر وہیں سے عوام کو خدمات فراہم کرتے رہیں گے۔
صوبائی وزیر نے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور کابینہ اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سوات کی ترقی اور عوامی سہولت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔





