گورنر راج سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ نفرتیں بڑھیں گی، امیر حیدر خان ہوتی

رستم : عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اگرچہ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ سیاسی تلخیوں کے ماحول میں گورنر راج نافذ کرنے سے مسائل کم ہونے کے بجائے نفرتوں میں اضافہ ہوگا۔

رستم کے علاقے پلو ڈھیری میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنا طرزِ عمل درست کرے اور وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے تاکہ صوبے کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض نادان عناصر یہ تاثر دیتے ہیں کہ دہشت گردی عوامی نیشنل پارٹی کی پیداوار ہے، جو سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی دراصل 45 سال قبل کیے گئے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ آج بھی قوم بھگت رہی ہے۔

امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دورِ حکومت میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں : سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے، ڈاکٹر امجد علی

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے عوام اور ریاست کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے قربانیاں دیں۔

سابق وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آئین میں گورنر راج کی شق ضرور موجود ہے، مگر موجودہ حالات میں ایسا کوئی قدم اٹھانے سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور معاشرے میں نفرتیں مزید گہری ہوں گی۔

Scroll to Top