گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کے اہم مسائل کو پریس کانفرنس یا عوامی سطح پر گالم گلوچ سے حل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے حل کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبہ محاذ آرائی یا سیاسی تناؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے سیاسی اختلافات کو شدت کے بجائے تعاون اور عملی حل کے ذریعے ختم کرنا ضروری ہے۔اپنے ایک بیان میں گورنر نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کو نہ نکالا گیا تو ’’ہمارے جنازے آئیں گے‘‘ تاہم پی ٹی آئی کی اکثریت اس وقت بھی چاہتی ہے کہ عمران خان باہر نہ آئیں، کیونکہ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور اثر و رسوخ کی وجہ سے دکان قائم ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ترقی، عوامی فلاح اور امن قائم رکھنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی کارروائیوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گالم گلوچ یا میڈیا پر شور شرابے سے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے اور ایسا رویہ صرف سیاسی انتشار کو ہوا دے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ گورنر کے اشارے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صوبائی قیادت اب محاذ آرائی کی بجائے مسائل کے حل کے لیے عملی اور متوازن حکمت عملی اپنانا چاہتی ہے۔





