کویت میں غیر ملکیوں سے متعلق نئےقوانین نافذ

کویت کی وزارت داخلہ نے غیر ملکیوں کی رہائش، ویزوں اور متعلقہ امور سے متعلق نئے ایگزیکٹو قوانین کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

یہ قوانین وزارتی قرارداد نمبر 2249 برائے 2025 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ان نئے ضوابط کے ذریعے رہائشی اجازت ناموں، انٹری اور وزٹ ویزوں، ملازمین، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کے نظام کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔

نئے قوانین کے تحت تمام اقسام کی انٹری اور وزٹ ویزوں کے لیے ماہانہ 10 کویتی دینار فیس مقرر کر دی گئی ہے جبکہ عام رہائشی اقامے کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک ہو گی۔ جائیداد کے غیر ملکی مالکان اور ان کے بچوں کو دس سال تک کا اقامہ حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پندرہ سال تک کی طویل المدتی رہائش دی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں : غیر قانونی مقیم خبردار! یو اے ای نے قوانین مزید سخت کر دیے

ملازمین سے متعلق قواعد میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے ضابطوں کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی ملازم کویت سے باہر زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی ملازم ایگزٹ پرمٹ کے بغیر اس مدت سے تجاوز کرتا ہے تو اس کا اقامہ خود بخود منسوخ تصور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ نئے ورک ویزے صرف 21 سے 60 سال کی عمر کے افراد کو جاری کیے جائیں گے۔

نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے وزارت داخلہ نے والدین کو پابند کیا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے چار ماہ کے اندر اندراج مکمل کروائیں۔ مقررہ مدت کے بعد اندراج کی صورت میں پہلے مہینے کے لیے روزانہ دو کویتی دینار جبکہ اس کے بعد روزانہ چار کویتی دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ہیلتھ انشورنس کو بھی اقامہ اور ویزا کے اجرا سے براہ راست منسلک کر دیا گیا ہے۔ فیملی ویزا سمیت مختلف کیٹیگریز کے لیے ہیلتھ انشورنس کی فیس 100 کویتی دینار مقرر کی گئی ہے، جبکہ اقامہ کی مدت ہیلتھ انشورنس کی مدت سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔

نئے قوانین میں ملک بدری کے اسباب بھی واضح کر دیے گئے ہیں، جن میں آمدنی کا کوئی مستند ذریعہ نہ ہونا، اپنے کفیل کے علاوہ کسی اور کے لیے کام کرنا، پانچ سال کے دوران تین بار مجرمانہ سزا یافتہ ہونا، یا ایسے اقدامات میں ملوث ہونا شامل ہے جو مفاد عامہ، قومی سلامتی یا اخلاقیات کے منافی ہوں۔

وزارت داخلہ کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانا، اقامتی نظام کو مؤثر بنانا اور اسے کویت کے وسیع تر قانونی فریم ورک کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔ تمام متعلقہ حکام کو ان احکامات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ ان قوانین کو سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا جائے گا۔

Scroll to Top