قانون اجازت دیتا ہے، پھر ملاقاتوں میں رکاوٹ کیوں؟ جنید اکبر

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ اختیار نہ رکھنے والی حکومت سے مذاکرات ممکن نہیں، تاہم اگر بامقصد اور بااختیار مذاکرات کی فضا بنی تو پی ٹی آئی آج بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ رویہ برقرار رہا تو سیاسی مفاہمت کا امکان ختم ہو جائے گا۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی غیر قانونی مطالبات نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلوں کے مطابق ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہیں، مگر ان فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ پارٹی بانی کو دی گئی سزا قانونی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف ملاقاتوں تک کی اجازت نہیں دی جاتی، جو سنجیدہ سیاسی عمل کے منافی ہے۔

جنید اکبر خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سیاسی سپیس دی جائے، بے بنیاد ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن کارکنوں اور پارٹی قیادت کے خلاف سخت اور جارحانہ رویہ ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے کی نجکاری پر حکومت پر تنقید کرنا نہیں بنتی،مفتاح اسماعیل

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی اور بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ دینا غیر انسانی رویہ ہے، جبکہ سیاسی قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک عوامی غم و غصے میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ٹوئٹس اور ویڈیوز پر پابندیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ ان سے فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے ادارے مضبوط ہوں اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوں، مگر اس کے لیے اعتماد کی فضا پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

آخر میں جنید اکبر خان نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرا کر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اگر واقعی سیاسی استحکام مقصود ہے تو حکومت کو سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

Scroll to Top