صوبے میں کابینہ ردوبدل اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی، سال بھر سیاسی بے یقینی

پشاور: سال 2025 خیبر پختونخوا کے لیے سیاسی بے یقینی اور عدم استحکام کا سال ثابت ہوا، جہاں نہ صرف کابینہ میں بار بار رد و بدل دیکھنے میں آیا بلکہ صوبے میں وزارتِ اعلیٰ کا منصب بھی تبدیل ہوا۔

سال بھر سیاسی فیصلوں اور انتظامی تبدیلیوں نے صوبائی حکومت کی سمت کو غیر یقینی بنائے رکھا۔

دو مارچ 2024 کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے والے علی امین گنڈاپور 15 اکتوبر 2025 کو ایک سال سات ماہ اور تیرہ دن بعد مستعفی ہو گئے۔

ان کے استعفے کے بعد سہیل خان آفریدی نے 15 اکتوبر 2025 کو خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔

علی امین گنڈاپور کے دورِ حکومت میں کابینہ میں متعدد مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں۔ مستعفی ہونے سے چند روز قبل بھی، دو اکتوبر 2025 کو صوبائی کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کیا گیا۔

اس موقع پر خلیق الرحمان سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا قلمدان واپس لے کر انہیں محکمہ صحت سونپا گیا، جبکہ احتشام خان کو صحت کے مشیر کے عہدے سے ہٹا کر ایکسائز کا مشیر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح زاہد چند زیب کو سیاحت کے محکمے سے ہٹا کر محنت کا قلمدان دیا گیا۔

اسی ردوبدل کے دوران پختون یار کو پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے ہٹا کر کھیل کا محکمہ سونپا گیا، جبکہ فخر جہان سے کھیل کی ذمہ داری لے کر انہیں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا قلمدان دے دیا گیا۔

محمد عاصم خان کو معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم مقرر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف محمد علی الحداد جاں بحق، لیبیا کی وزیراعظم نے تصدیق کر دی

علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی صوبائی کابینہ تحلیل کر دی گئی، جس کے بعد نئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے 13 رکنی نئی کابینہ تشکیل دی۔ اس کابینہ میں بعض سابق وزرا کو دوبارہ شامل کیا گیا جبکہ چند نئے چہروں کو بھی موقع دیا گیا۔

نئی کابینہ میں فیصل ترکئی، عاقب اللہ، خلیق الرحمان، فخر جہان، فضل شکور، آفتاب عالم، ڈاکٹر امجد، مینا خان اور مزمل اسلم کی واپسی ہوئی، جبکہ ریاض خان، شفیع جان اور تاج محمد ترند پہلی بار کابینہ کا حصہ بنے۔

صوبائی حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا کہنا ہے کہ کابینہ میں ردوبدل کا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے اور وہ جب چاہیں کسی کو شامل یا فارغ کر سکتے ہیں۔

ان کے بیان نے صوبے میں اختیارات کے مرکز اور سیاسی فیصلوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

Scroll to Top