مذاکرات کے لیے شرط نہیں، لیکن بلیک میلنگ کسی صورت قبول نہیں، رانا ثنا

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ متنازع رہے ہیں، تاہم اگر انتخابات درست نہ بھی ہوں تو اس کا حل سڑکوں پر آنا نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کا آپس میں بیٹھ کر معاملات طے کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان خود یہ کہہ چکے ہیں کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات شفاف نہیں تھے، حالانکہ 2018 کے الیکشن میں جے یو آئی خود شریک تھی اور وہ اسمبلی بھی پانچ سال مکمل کر گئی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کو بھی اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے اور 2029 سے قبل نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آج بھی سیاسی جماعتوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی پیشکش کی ہے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے آنے والا ردعمل مثبت نہیں تھا۔

ان کے مطابق سلمان اکرم راجا کے بیان کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کو بار بار مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے۔

مشیر وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے پہیہ جام کرنے کے اعلان کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت کے مطالبات ہیں تو وہ میز پر آ کر بات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے، وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی اور پی ٹی آئی جو بھی مطالبات رکھنا چاہے رکھ سکتی ہے، تاہم حکومت اپنا مؤقف ضرور پیش کرے گی۔

رانا ثناء اللہ نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد پر حملہ کرنے کا حق کس نے دیا؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد دھمکی آمیز بیانات دینا سیاسی بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے برداشت کا مظاہرہ کیا، ورنہ وہ مذاکرات کی پیشکش واپس بھی لے سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : صوبے میں کابینہ ردوبدل اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی، سال بھر سیاسی بے یقینی

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پر حملے کی تیاری کسی صورت قابل قبول نہیں اور ماضی میں بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقاتوں کے ذریعے ہی 26 نومبر کے واقعات کی تیاری کی گئی۔

رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ اگر اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے ہیں تو پھر ملاقاتیں بھی قانون کے مطابق ہونی چاہئیں۔

مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پارٹی قیادت کی منظوری سے مذاکرات کی دعوت دی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ہر منگل اور جمعرات کو احتجاجی سرگرمیوں کو ڈرامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی باز نہ آئی تو حکومت کو مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی میں خیبر پختونخوا بند کرنے کی ہمت ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تصادم اور افراتفری پھیلانے پر تلی ہوئی ہے، اگر اسلام آباد پر حملہ کیا گیا یا مسلح ہو کر آنے کی کوشش کی گئی تو قانون اپنا راستہ لے گا۔

Scroll to Top