حکومت سے مذاکرات میں نیا رخ: سلمان اکرم راجہ نے شرطیں بتا دیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کی طرف سے مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا گیا ہے، تاہم مذاکرات کی بنیاد واضح اور قانونی ہونی چاہیے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ انتخابی نظام کے حوالے سے جو اعتراضات ہیں، ان کا حل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہاجس نے چوری کی، اس سے بات کیسے ہوگی؟ پہلے یہ ماننا ہوگا کہ پورے نظام نے عوام کی رائے پر ڈاکا مارا، تبھی شفاف انتخابات پر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ پارٹی خود مذاکرات کرے گی، اپوزیشن اتحاد بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مقدمے ہیں اور ملاقاتوں کی اجازت نہیں، تو مذاکرات کیسے ممکن ہوں گے۔

ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ علیمہ خان کی جانب سے مذاکرات سے متعلق جو بیان آیا ہے، اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر محمود اچکزئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو وہ مذاکرات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پہلے کہا تھا کہ جو مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا، خواجہ آصف

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے ساتھی جائز مطالبات پر بات کر رہے ہیں، اور انہیں پہلے بھی مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی آڑ میں بلیک میلنگ یا غیر قانونی دباؤ قبول نہیں ہوگا۔

Scroll to Top