اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں وہ اس معاملے پر کوئی واضح موقف نہیں دے سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے معاملات پی ٹی آئی کے سینئر رہنما محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس دیکھیں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کسی بھی فوری جواب سے اجتناب کیا اور کہا کہ پارٹی قیادت اس معاملے میں آئندہ حکمت عملی مرتب کرے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو حکومت بھی ڈائیلاگ کے لیے مکمل طور پر آمادہ ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی مطالبات یا بلیک میلنگ کی بنیاد پر کوئی بات چیت ممکن نہیں ہوگی۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں متعدد بار واضح کر دیا ہے کہ جائز اور آئینی نکات پر مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت سے مذاکرات میں نیا رخ: سلمان اکرم راجہ نے شرطیں بتا دیں
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو اسمبلی میں بھی مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے تاکہ تمام پارٹیوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی قائم ہو سکے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ناگزیر ہے اور یہ عمل ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں حصہ لینے یا شرائط تسلیم کرنے کے بارے میں حتمی موقف ابھی واضح نہیں ہوا، جبکہ حکومت نے یہ اعلان کر کے واضح کر دیا ہے کہ آئینی اور جائز بنیادوں پر مذاکرات کی راہیں ہمیشہ کھلی ہیں۔





