ڈنمارک نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت وہ 10 دن تک ورک پرمٹ کے بغیر کاروباری تقریبات میں کام کر سکیں گے۔
اس فیصلے کا مقصد بین الاقوامی کانفرنسز، تجارتی میلوں اور دیگر اہم کاروباری ایونٹس میں شامل عملے کے لیے انتظامی رکاوٹیں کم کرنا ہے۔
نئے ضابطے کے مطابق وہ غیر ملکی افراد جو ڈنمارک سے باہر کسی کمپنی کے ملازم ہیں اور کسی بین الاقوامی کاروباری تقریب کی ٹیم کا حصہ ہیں، اب 10 دن تک بغیر ورک پرمٹ کے کام کر سکیں گے۔
اس سہولت سے ایونٹ مینیجرز، پلانرز، ٹیکنیشنز، کمیونیکیشن اسپیشلسٹس اور دیگر ضروری عملہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔
قانونی حد بندی کے تحت یہ استثنا صرف انڈور تقریبات پر لاگو ہوگا، جن میں کم از کم 400 رجسٹرڈ شرکا موجود ہوں اور جو عام عوام کے لیے اوپن نہ ہوں۔ اس میں ایونٹ کی تیاری، دورانِ انعقاد سرگرمیاں اور اختتام کے بعد انتظامی امور شامل ہیں۔
تاہم، عوامی میلوں، کنسرٹس، آؤٹ ڈور یا اوپن ایونٹس، فری لانسرز، مقامی بھرتی شدہ عملے یا غیر ضروری کرداروں کے لیے یہ سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان انڈر 19 ٹیم کا عالمی چیلنج، آئی سی سی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کے لیے روانہ
ان زمروں میں شامل افراد کو ڈنمارک کے موجودہ ورک ویزا قوانین کے تحت اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
ڈنمارک کے اس نئے اقدام سے ملکی اور بین الاقوامی کاروباری تقریبات میں شمولیت آسان ہوگی اور غیر ملکی ماہرین کو ایونٹس میں شامل ہونے کے لیے کم انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے عالمی سطح پر ڈنمارک کی تجارتی تقریبات کی کشش میں اضافہ متوقع ہے۔





