شیراز احمد شیرازی
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اہم اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، بی این پی کے رہنما ساجد ترین، سیکرٹری جنرل تحریک تحفظِ آئین اسد قیصر، وائس چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ترجمان اتحاد اخونزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران 8 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یومِ سیاہ منانے اور ہڑتال کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت بھی زیرِ غور آئی۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو اس وقت شدید سیاسی اور معاشی بحران، امن و امان کی خراب صورتحال اور گورننس کے فقدان کا سامنا ہے، جن سے نکلنے اور عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے خاتمے کے لیے ایک نئے قومی میثاق کی اشد ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کی حکومتی پیشکش ،پی ٹی آئی کا ردعمل سامنے آگیا
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجوزہ نئے میثاق میں شفاف انتخابات کا انعقاد، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کی تقرری اور پارلیمانی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور آئینی و جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں 8 فروری کے یومِ سیاہ اور سٹریٹ موبلائزیشن کو مؤثر بنانے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔





