ریڈیو پاکستان حملہ کیس:پشاور ہائیکورٹ کا بڑا حکم جاری

کرپٹوکرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ پر پابندی لگانے کے خلاف دائررٹ پر قراردیاہے کہ چونکہ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایاجاچکاہے جس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن وغیرہ کیلئے ایک لیگل فریم ورک تیارکیاگیا ہے اور ان معاملات کو ریگولیٹ کیاگیاہے لہذا یہ رٹ پٹیشن اب غیرموثرہوگئی ہے ۔

جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران میاں خیل پر مشتمل دورکنی بنچ نے بیرسٹر حذیفہ احمدکی رٹ پٹیشن پر سماعت کی جبکہ 8صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس کامران حیات میانخیل نے تحریرکیاہے ۔

رٹ میں بیرسٹر حذیفہ احمد نے موقف اختیار کیا تھا کہ ملک میں آن لائن طریقے سے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی کھلے عام سرگرمیاں جاری ہیں اور اس مقصد کیلئے باقاعدہ سوشل میڈیا اور برائے نام تربیتی اکیڈیمیاں بھی کھولی گئی ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس قسم کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسکی آڑ میں دہشتگردی کیلئے ٹیرر فنانسنگ کے علاوہ منی لانڈرنگ جیسے خطرات موجود ہیں جو عوامی مفادات اور قومی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے۔اس ضمن میں درخواست گزار نے ایف آئی اے اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور حکومت کو بھی آگاہ کیا تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

درخواست گزار وکیل کے مطابق کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروبار کے اکاونٹس کو باقاعدہ طور پر ریگولیٹ کرکے انکی مانیٹرنگ کی جائے۔

رٹ میں یہ موقف بھی اختیار کیاگیا تھاکہ حکومت کو احکامات دیئے جائیں کہ وہ کرپٹو کرنسی اور فاریکس ٹریڈنگ سے متعلق قانون سازی کرے اور منی لانڈرنگ اورآن لائن غیرقانونی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری سے متعلق معاملات کوحل کیاجاسکے۔
اس ضمن میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کیجانب سے جاری نوٹیفیکیشن کو کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی ۔

دوسری جانب عدالتی فیصلے کے مطابق اس ضمن میں فریقین نے بھی کمنٹس جمع کیے ۔

عدالت نے قراردیاکہ اس سے کوئی اختلاف نہیں کیاجاسکتا کہ کرپٹو کرنسی کو پاکستان میں قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیاگیاہے کہ وہ اس قسم کے کرنسی کاروبار میں احتیاط برتے تاہم اس میں ایساکچھ نہیں بیان کیا گیاکہ کرپٹو کرنسی کاکاروبار ایک جرم ہے اور اس پر سزاءبھی مقرر ہے ۔

تحریری فیصلے کے مطابق مالی امور کو قانونی دائرے میں لانایا ریگولیشن کرنااور کرپٹوکرنسی کی روک تھام ایک پیچیدہ پالیسی عمل ہے جس پر سوچ بچار کی ضرورت ہوئی ہے اور اس کے اپنے ماہرین ہوتے ہیں جبکہ درخواست گزار نے اس قسم کے ٹریڈ پر پابندی اورایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کی ہے اور اس کیلئے قانون سازی کرنیکی بھی استدعا کی ہے تاہم اس قسم کا ریلیف انتظامیہ اور مقننہ کے ڈومین میں آتا ہے جو کہ عدالتی اختیارات نہیں ہیں ۔

عدالت نے قراردیاکہ یہ معاملہ پالیسی ساز ی اور قانون سازی کا ہے جو کہ اس عدالت کے اختیار میں نہیں آتااوراب چونکہ حکومت کیجانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025بھی آچکاہے اور ان چیزوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے باقاعدہ فریم ورک اور پالیسی آئی ہے لہذااس اسٹیج پر یہ رٹ غیرموثر ہوچکی ہے۔

Scroll to Top