کینیڈا جانیوالے پاکستانی شہریوں کیلئے بڑی خوشخبری

کینیڈا میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔

کینیڈا میں مستقل سکونت اختیار کرنے میں دلچسپی رکھنے والے افراد فیڈرل اسکلڈ ورکر پروگرام کے ذریعے ایکسپریس انٹری سسٹم کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی شہریوں سمیت دنیا بھر سے ہنر مند افراد درخواست دے سکتے ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق امیدواروں کا انتخاب تعلیم، پیشہ ورانہ تجربے، زبان پر عبور اور دیگر مقررہ معیار کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا ایسے کارکنوں کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہے جو مہارت اور تجربے کے ذریعے ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ پروگرام کے لیے اہل ہونے کے لیے درخواست دہندگان کو مخصوص شعبے میں کام کا تجربہ، نیشنل آکیوپیشنل کلاسیفکیشن کے مطابق تعلیمی پس منظر اور زبان کی مہارت سمیت طے شدہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

اگر کوئی امیدوار بنیادی تقاضے پورے کرتا ہے تو اس کی اہلیت جانچنے کے لیے سلیکشن فیکٹر پوائنٹس سسٹم استعمال کیا جاتا ہے۔ جن امیدواروں کے 67 یا اس سے زائد پوائنٹس بنتے ہوں، وہ فیڈرل اسکلڈ ورکر پروگرام کے تحت اہل قرار پاتے ہیں اور بعد ازاں ایکسپریس انٹری پول میں اپنی پروفائل جمع کرا سکتے ہیں۔

ان پوائنٹس کا انحصار زبان کی مہارت، تعلیمی قابلیت، ہنر مند کام کے تجربے، عمر، کینیڈا میں ملازمت کی پیشکش اور موافقت جیسے عوامل پر ہوتا ہے۔ ہر شعبے کے لیے الگ الگ پوائنٹس مقرر ہیں، جن کی مجموعی بنیاد پر امیدوار کی اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یورپ جانے کے خواہشمند افراد کے لئے خوشخبری

کینیڈا میں آباد ہونے کے لیے درخواست دہندگان کو اپنے ایکسپریس انٹری پروفائل میں مالی وسائل کا ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ امیدوار اور اس کا خاندان کینیڈا میں ابتدائی اخراجات برداشت کرنے کی مالی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر کینیڈین حکام کی جانب سے درخواست دینے کی دعوت دی جائے تو فنڈز کا تحریری ثبوت جمع کرانا لازم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی خاندان کے افراد کی تعداد پانچ ہو تو انہیں کم از کم 32 ہزار 168 کینیڈین ڈالرز درکار ہوں گے۔ اسی طرح چھ افراد پر مشتمل خاندان کے لیے یہ رقم 36 ہزار 280 کینیڈین ڈالرز جبکہ سات افراد کے خاندان کے لیے کم از کم 40 ہزار 392 کینیڈین ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی بینک یا مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ آفیشل لیٹر بطور ثبوت قابل قبول ہوگا۔

Scroll to Top