اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنان منتشر، پولیس نے واٹر کینن استعمال کر کے میدان سنبھال لیا

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان اور رہنماؤں کے درمیان احتجاجی مظاہرے کے دوران ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔

کارکنان سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تھے، تاہم جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جس پر کارکنان اور مظاہرین نے احتجاج شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق مظاہرین نے کہا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی، وہ یہی دھرنا جاری رکھیں گے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے لیکن نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

اس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جس کے فوری اثر سے کارکنان جگہ چھوڑ کر چلے گئے۔

مظاہرین کے پاس برساتی اور شاپر بیگ بھی تھے، جنہیں انہوں نے اپنے سروں پر باندھا ہوا تھا اور کہا کہ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف کی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ملاقات کی بھیک میں اپنوں کا بھی ہاتھ ہے، تحریک اپنی جگہ مگر مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : K9 یونٹ نے 2025 میںدہشت گردوں کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا، آئی جی خیبر پختونخوا

علیمہ خان، عظمی خان، نورین خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک، ایم پی اے تنویر اسلم اور دیگر کو پولیس نے حراست میں لے لیا، مگر بعد میں عمران خان کی بہنیں رہا کر دی گئیں۔

واٹر کینن کے ایک وار کے بعد پی ٹی آئی کارکنان منتشر ہو گئے اور پولیس نے میدان مکمل طور پر سنبھال لیا۔

حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔

Scroll to Top