پاکستان کی معیشت کی راہ میں تبدیلی، صنعتی ترقی اور جی ڈی پی میں واضح بہتری

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت میں پہلی سہ ماہی 2025-26 میں قابلِ قدر ترقی دیکھی گئی ہے، جس کے مطابق ملک کا مجموعی داخلی پیداوار (GDP) 3.71 فیصد بڑھ گیا ہے۔

یہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 2.15 فیصد زیادہ ہے، جو معیشت کے راستے میں واضح تبدیلی اور مثبت رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اس کامیابی کا ذکر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کیا اور کہا کہ یہ ترقی نہ صرف GDP کی شرح میں اضافہ ظاہر کرتی ہے بلکہ صنعتی شعبے میں ریکارڈ نمو بھی دکھاتی ہے، جو معیشت کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق 2024-25 میں ملک کی جی ڈی پی کا سہ ماہی وار رجحان بالترتیب 1.56، 2.03، 2.66 اور 6.17 فیصد رہا، جبکہ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہونے والی شرح 2024-25 کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے، جو معاشی نمو کی مضبوط بنیاد کی علامت ہے۔

مزید حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس ترقی کی بنیاد صنعت کی بڑھوتری ہے۔ 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں صنعتی شعبے کی نمو 9.38 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2024-25 کی پہلی سہ ماہی میں یہ صرف 0.12 فیصد تھی۔

یہ اعداد و شمار صنعتی ترقی کی طاقت اور معاشی سرگرمیوں میں دوبارہ اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی نے کہا ہے کہ یہ مثبت نمو حالیہ موسمیاتی اور اقتصادی چیلنجز کے باوجود حاصل کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت دہشتگردی صوبے کے چند علاقوں تک محدود رہ گئی، فیصل کریم کنڈی

اس دوران ملک کو 2025 کی تباہ کن بارشوں (سیلاب) کا سامنا کرنا پڑا، جس نے معیشت پر بوجھ ڈالا۔ علاوہ ازیں مالیاتی سختی، توانائی سبسڈی کی بندش اور خوراک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کے باوجود یہ ترقی ممکن ہوئی، جو حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور صنعتی شعبے کی مضبوط بنیادوں کی تصدیق کرتی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ یہ مثبت اشارہ ملک کی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے مشکل حالات کے باوجود ترقی کی راہ پر قدم بڑھایا ہے۔

مستقبل میں اگر صنعت اور دیگر شعبوں میں اسی طرح کی مضبوط نمو برقرار رہی تو سالانہ ترقی کی شرح میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

Scroll to Top