اسلام آباد : وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے نجی ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں بد تہذیبی اور گالیوں کا کلچر غالب ہے، اور جو لوگ تہذیب کے ساتھ ہیں، ان کے لیے اس پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی مہمان اداکار ہیں، چند دنوں کے لیے۔ جب گھوڑوں کو ریس سے الگ کر دیا جائے تو خچروں کی حکومت آ ہی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی میں بد تہذیبی اور گالیوں میں نمبر زیادہ تھے، تو وہ نمبر آ گیا۔ یہی کلچر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بازاری زبان استعمال کرتے ہیں، اگر تحریک انصاف کا اختیار ان کے پاس ہوا، تو انہیں لگتا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اگلے 100 سال جیل سے باہر نہیں آئیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کی شرط یہ ہے کہ نیا الیکشن کمشنر لگا دیا جائے یا نیا الیکشن کروایا جائے، تو اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اختیار ولی نے پی ٹی آئی کی پرامن سرگرمیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو خطوط وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے یا اسپیکر پنجاب اسمبلی کو بھیجے گئے، اگر یہ پہلے شیئر کر دئیے جاتے، تو بہتر ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : مسائل سڑکوں پر نہیں، مذاکرات کی میز پر حل ہوتے ہیں، طارق فضل چوہدری
لیکن پی ٹی آئی کی کوئی بھی سرگرمی پرامن نہیں ہوتی، چاہے وہ 26 نومبر ہو، 8 ستمبر ہو، 14 اگست ہو یا ڈی چوک کا دھرنا ہو۔ 9 مئی کے واقعات سے واضح ہے کہ جب تک نقصان یا حادثہ نہیں ہوتا، یہ کوئی ڈسکس نہیں کرتے۔
اختیار ولی خان مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی کے بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفیکیشن کے امکان پر بھی بات کی اور کہا کہ ہم نے اچکزئی صاحب سے یہ سوال ضرور کرنا ہے کہ جو مذاکرات کی بات وہ کرتے ہیں، کیا ان کے پاس اس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ عمران خان ان کی بات کو تسلیم کریں گے۔
کیونکہ محمود خان صاحب ہمیں اور آپ کو زیادہ جانتے ہیں، اور انہوں نے خود کہا تھا کہ عمران خان انتہائی ناقابل اعتماد شخص ہیں۔





