نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغاز

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغازکیاگیا ہے۔

جاری اعلامیہ کےمطابق عمر میں اضافے یا بعض طبی مسائل کے باعث بہت سے شہریوں کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتے ہیں۔ ایسے شہری جب بینکوں، سم کارڈ فروخت کنندگان، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا جائیداد کی منتقلی جیسی خدمات کے حصول کے لئے رجوع کرتے ہیں، جہاں فنگر پرنٹس کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوتی ہے، تو انہیں اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نادرا کے مطابق کئی مقامات پر غیر معیاری یا کم معیار کے فنگر پرنٹ ریڈرز کے استعمال کے باعث بھی بائیومیٹرک تصدیق ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ایسے شہریوں کی سہولت کے لئے طریقۂ کار وضع کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر شہریوں کو اس عمل میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان اور وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات نے شہریوں کو درپیش اس مسئلے کے فوری اور مؤثر حل کے لئے نادرا کو ہدایات جاری کی ہیں۔

نادرا کی سفارش پر وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے بائیومیٹرک کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے۔ اب فنگر پرنٹس کے ساتھ ساتھ چہرے کی تصویر اور آنکھ کی آئرس کو بھی قانونی طور پر بائیومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان میں ملٹی بائیومیٹرک تصدیقی نظام کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اس قانونی ترمیم کی بنیاد پر نادرا نے اپنی پاک آئی ڈی سمارٹ فون اپلیکیشن میں کانٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور چہرے کی شناخت کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔

یہ نظام اس وقت نادرا کے دائرۂ اختیار میں آنے والی خدمات کے لیے نادرا رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی اپلیکیشن دونوں پر دستیاب ہے، اور اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بائیومیٹرک تصدیق کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ عنقریب وفاقی حکومت کے پنشنرز کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کئے جا سکیں گے، جبکہ ان ڈیجیٹل خدمات کے دائرۂ کار کو مرحلہ وار وسعت دی جا رہی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق نادرا 20 جنوری 2026 سے اپنے تمام رجسٹریشن مراکز میں ان شہریوں کے لئے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا آغاز کر رہا ہے جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ اگر کسی ادارے کی جانب سے شہری سے ایسا سرٹیفکیٹ طلب کیا جائے تو شہری کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے محض 20 روپے کے معمولی چارجز کے عوض یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

نادرا کے مطابق اس طریقۂ کار کے تحت، اگر متعلقہ سروس فراہم کنندہ کے پاس فنگر پرنٹس کی بنیاد پر بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے، تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر اپنی تازہ تصویر بنوائے گا، جس کا موازنہ نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے کیا جائے گا۔ تصدیق مکمل ہونے پر نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جس پر تصدیق کا مقصد، شہری کی تازہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائے گا جہاں بائیومیٹرک تصدیق درکار تھی، اور متعلقہ ادارہ اس سرٹیفکیٹ کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا کر نادرا سے آن لائن توثیق حاصل کرے گا۔

مستقبل میں تصویر کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ نادرا کی ای سہولت فرنچائزز کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکے گا۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہی سہولت پاک آئی ڈی ایپلیکیشن میں تمام خدمات کے لیے دستیاب ہوگی۔

ناس مقصد کے حصول کے لیے نادرا نے تمام متعلقہ سرکاری و نجی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ نادرا کی بائیومیٹرک تصدیقی خدمات کے تسلسل کے لیے اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو منظور شدہ معیارات کے مطابق مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔ پہلے مرحلے میں اداروں کی سافٹ ویئر ایپلیکیشنز میں مطلوبہ تکنیکی اپ گریڈ ناگزیر ہے، جس کے ذریعے نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت کی بنیاد پر جاری کردہ بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کو ادارہ جاتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکے۔

دوسرے مرحلے میں صارف کی تصدیق کے لیے اداروں کے دفاتر میں کیمرے نصب کرنا یا موجودہ بائیومیٹرک مشینوں میں کیمرہ شامل کرنا ضروری ہوگاکیونکہ ان تکنیکی اپ گریڈز کے بغیر نادرا یہ سہولت براہِ راست ان اداروں میں فراہم نہیں کر سکتا۔ اگر شہریوں کو 20 جنوری 2026 کے بعد اس سہولت کی دستیابی سے متعلق کسی قسم کی شکایت ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے کو اپنی شکایت ارسال کریں، کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سہولت دستیاب ہوگی۔

سہولت کی جلد از جلد عملی دستیابی کے لیے نادرا نے وزارتِ داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔ جب ادارے مرحلہ وار تکنیکی اپ گریڈ مکمل کر لیں گے تو فنگر پرنٹس کے مدھم ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنے والے شہریوں کے مسائل کا مؤثر ازالہ ممکن ہو سکے گا، اور مکمل اپ گریڈ کے بعد شہریوں کو نادرا رجسٹریشن مرکز جانے کی بجائے اسی متعلقہ ادارے میں یہ سہولت دستیاب ہوگی۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد شہری یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپلیکیشن کے ذریعے خود بھی حاصل کر سکیں گے۔

Scroll to Top