افغانستان کے صوبہ وردگ کے دارالحکومت میدان شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک بھارتی ڈرون گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس کی تصاویر اور ابتدائی رپورٹوں کے مطابق یہ اسرائیلی ماڈل Heron UAV سے مماثل دکھائی دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق جائے حادثہ کی تصاویر میں واضح ہے کہ تباہ ہونے والا ڈرون درمیانی بلندی اور طویل پرواز کی صلاحیت رکھنے والا نگرانی کا ڈرون ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور متعدد رپورٹس کے مطابق خطے میں اس ماڈل کے ڈرونز بھارت ہی بڑے پیمانے پر استعمال کرتا ہے۔
اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے یہ ڈرون بھارت کو اس سال مئی میں “انسانی ہمدردی کی امداد” کے نام پر فراہم کیے تھے۔یہ ڈرون افغانستان میں گر کر تباہ ہونے کے واقعے نے ان الزامات کو تقویت دی ہے کہ بھارت پڑوسی ممالک میں مداخلت اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں ملوث ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھی بھارت کی جانب سے اسرائیلی ساختہ ‘Harop’ ڈرونز پاکستان کی حدود میں مار گرائے گئے تھے۔ تاہم، اس ڈرون کے اصل آپریٹر اور اس کے مشن کی نوعیت کی تصدیق تب ہوگی جب افغان حکام یا طالبان حکومت ملبے کا باقاعدہ معائنہ کریں گے۔
ابتدائی رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ڈرون تکنیکی خرابی، مقامی افواج کی فائرنگ، یا نیویگیشن میں مسائل کے باعث گر سکتا ہے، لیکن ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
افغان حکام یا کسی ریاستی ادارے کی طرف سے بھی اب تک اس ڈرون کے آپریٹر کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ڈرون بھارت کا تھا تو اس کے سنگین اثرات افغان دارالحکومت کابل اور نئی دہلی کے تعلقات، نیز خطے کی سیکورٹی پر مرتب ہوں گے۔
یہ واقعہ خطے میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے تشویش بڑھانے والا قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں سیاسی و دفاعی ردعمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔





