ڈیرہ اسماعیل خان: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حالیہ دنوں سانحہ پنیالہ میں شہید ہونے والے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے اہلکاروں کے لواحقین اور ساتھیوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔
اس موقع پر انہوں نے شہید اے ایس آئی گل اسلم، شہید سپاہی ڈرائیور سخی جان اور شہید سپاہی محمد رفیق کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی تعزیت کے لیے اعجاز شہید پولیس لائن ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے، جہاں ان کا استقبال ریجنل پولیس آفیسر اشفاق انور اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صاحبزادہ سجاد احمد نے کیا۔
اس موقع پر گورنر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ پولیس حکام نے شہداء کے اہل خانہ اور زخمی اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی امداد اور سہولیات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے شہدائے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی یادگار پر پھولوں کا گلدستہ رکھا اور فاتحہ خوانی کی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی دھرتی کے عظیم شہداء کو سلام پیش کرنے ڈیرہ اسماعیل خان آئے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ باجوڑ میں میجر عدیل شہید نے اپنے خون سے فتنہ الخوارج کو ناکام بنایا جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے تین بہادر جوانوں نے امن و امان کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور صوبے کے عوام اپنی پولیس اور افواج پر فخر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کا شمار دنیا کی ان پولیس فورسز میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھا، پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، بھارتی سیاستدان
گورنر نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کی سرزمین کو بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، اس حوالے سے شواہد بھی دیے گئے ہیں، تاہم افغان حکومت اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ افغانستان کے عوام قابلِ احترام ہیں اور وہ پاکستان میں ویزہ اور قانون کے مطابق آئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل دو ٹوک ہے کہ آئین و قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ اگر پاکستان بھارت کو چار دن میں سبق سکھا سکتا ہے تو ریاستی اداروں کے لیے فتنہ الخوارج کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔





