26ویں اور 27ویں ترامیم پر تنقید تو ہے، لیکن غلطیاں کیوں نہیں بتائی جاتیں؟اعظم نذیر تارڑ

راولپنڈی: وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تنقید تو کی جاتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ یہ ترامیم کیوں غلط ہیں اور ان سے ملک پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں وکلا کے نئے چیمبرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں پراپرٹی کے قانون پر کچھ اعتراضات سامنے آئے ہیں، لیکن یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ جو لوگ اس مسئلے پر سیاست چمکانے کی کوشش کریں گے، انہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیرقانون نے اعلان کیا کہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹ میں 3 کروڑ 20 لاکھ روپے منتقل کیے جائیں گے تاکہ نئے چیمبرز کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔ یہ رقم 64 وکلاء کو دی جائے گی جن کے چیمبرز متاثر ہوئے تھے۔

اس موقع پر وکیل رہنما احسن بھون نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ واحد وزیرقانون ہیں جو خود وکلا برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور وکلا کے مسائل کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جمہوریت کے استحکام میں آزاد صحافت کا کردار کلیدی ہے، شفیع جان

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرقانون کی یہ حساسیت اور تعاون وکلا کے لیے یقیناً خوش آئند ہے اور نئے چیمبرز کی سہولت سے وکلا کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے تقریب میں کہا کہ وکلا کے مسائل کو حل کرنا اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بھی وکلا کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔

Scroll to Top