آسٹریلیا کے تجربہ کار بلے باز عثمان خواجہ نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔
39 سالہ خواجہ اتوار کو سڈنی میں انگلینڈ کے خلاف ایشز فائنل میں اپنا آخری اور 88واں ٹیسٹ کھیلیں گے، جہاں انہوں نے 2011 میں انہی حریفوں کے خلاف اپنا بین الاقوامی آغاز کیا تھا۔
خواجہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور 15 سال قبل انگلینڈ کی 3-1 سیریز جیت کے بعد رکی پوائنٹنگ کی جگہ لے کر آسٹریلیا کی ٹیم میں کھیلنے والے پہلے مسلم کھلاڑی بنے۔
انہوں نے کہا میں ایک فخر محسوس کرنے والا مسلمان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والا لڑکا ہوں جسے کہا گیا تھا کہ وہ کبھی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے نہیں کھیل پائے گا۔
خواجہ نے سیریز کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے پہلے ٹیسٹ سے ایک دن قبل گالف کھیلی تھی اور بعد میں پرتھ میں کمر میں درد کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کی طرف سے انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے جس طرح میری مخالفت کی میں شاید دو دن برداشت کر لیتا، لیکن مجھے لگاتار پانچ دن تک برداشت کرنا پڑا۔
عثمان خواجہ نے مزید کہا کہ سڈنی میں کھیلا جانے والا یہ ٹیسٹ ان کے 15 سالہ بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ ہوگا، انہوں نے کہا کہ یہ میچ ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اسی شہر میں پلے بڑھے اور کرکٹ دیکھتے ہوئے جوان ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف کرکٹر نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیا
خواجہ نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو اس فیصلے سے پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں تاہم وہ بگ بیش لیگ میں برسبین ہیٹ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئنزلینڈ کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔
عثمان خواجہ آسٹریلیا کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، وہ اب تک 87 ٹیسٹ میچز میں 6206 رنز بنا چکے ہیں اور ان کے نام 16 سنچریاں ہیں۔





