ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کا کیس، 7 ملزمان کو 2،2 بار عمر قید کی سزا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس میں سات ملزمان کو سخت سزائیں سنا دیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 9 مئی کے کیس میں ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزامات پر سات افراد کو قید و جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید کو ہر ایک کو 2، 2 بار عمر قید کی سزا سنائی جبکہ صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو بھی ہر ایک کو 2، 2 بار عمر قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی سنایا گیا ہے۔

پراسکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان عدالت میں پیش کیے گئے، عدالت نے پراسکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔

تھانہ آبپارہ کے کیس میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا دی گئی، تھانہ رمنا کے کیس میں شاہین صبہائی، حیدر مہندی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔

ملزمان کے قانونی وکیل کے طور پر گلفام اشرف گورائیہ عدالت میں پیش ہوئے جنہیں عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نو مئی مقدمات، میاں محمود الرشید کو 33 سال قید، دیگر رہنماؤں کو بھی سزا، تحریری فیصلہ جاری

انسداد دہشت گردی کے قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں بھی ٹرائل مکمل کیا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top