ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چھٹے روز بھی جاری، سکول اور دفاتر بند

تہران: ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو گئے ہیں۔

دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس نے ملک کے معاشی بحران اور حکومت کی پالیسیوں پر عوامی ناراضگی کو ظاہر کر دیا ہے۔

احتجاج کا آغاز دکانداروں کی جانب سے ہوا تھا، جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے۔

مظاہرین نے مختلف شہروں میں سڑکیں بند کیں، دکانیں اور کاروباری مراکز عارضی طور پر بند رکھے، جبکہ اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر بھی کئی صوبوں میں بند کیے جا چکے ہیں۔

مختلف مقامات پر ایرانی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

مظاہروں کے دوران پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں رپورٹ کی گئی ہیں، جو دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی جاری ہیں۔

عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق یہ احتجاج 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جس نے ملک میں معاشرتی اور سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے کمرے میں ٹی وی ، 2اخبار بھی دیئے جاتے ہیں، انجینئر محمد علی مرزا کا انکشاف

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا تو امریکا ان کے تحفظ کے لیے اقدام کرے گا۔

تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے احتجاجی معاملات میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی سلامتی کی خلاف ورزی کرنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

Scroll to Top