خیبرپختونخوا میں سرکاری گھروں اور گاڑیوں پر غیر متعلقہ افراد کے قابض ہونے کے انکشاف کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فوری اور سخت اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مراسلے کے مطابق، ریٹائرڈ ہونے والے یا صوبے سے تبادلہ پانے والے سرکاری ملازمین سے سرکاری رہائش گاہیں فوری خالی کرائی جائیں اور سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں۔ مراسلے میں تمام محکموں کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ ایسے ملازمین کے کیسز کا بھی جائزہ لیں جنہیں ایک سے زیادہ سرکاری رہائش گاہیں الاٹ کی گئی ہیں۔
مزید برآں، ایسے کیسز کی نشاندہی کی جائے جن میں شوہر اور بیوی کو الگ الگ سرکاری رہائش گاہیں دی گئی ہوں، یا ایسے اہلکار جو ذاتی گھر رکھنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہ حاصل کر چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو گزشتہ دس سالوں کے دوران خریدی گئی سرکاری گاڑیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بعض سرکاری ملازمین ریٹائرمنٹ یا تبادلوں کے بعد بھی سرکاری گاڑیاں اپنے ساتھ رکھ چکے ہیں
وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق، یہ اقدام صوبے میں سرکاری وسائل کی شفافیت اور بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور آئندہ اس طرح کے غیر قانونی قبضوں کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔





