بھارتی کرکٹ بورڈ کا بنگلا دیشی کرکٹرز کے ساتھ متعصبانہ رویہ کھل کر سامنے آ گیا ہے، کیونکہ اب بنگلا دیشی کھلاڑیوں پر بھی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمن کو اپنے اسکواڈ سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے باعث کیا گیا۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر ٹیم نے مستفیض کو اسکواڈ سے ریلیز کر دیا۔
یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ انتہا پسند ہندوتوا تنظیم شیوسینا کی مخالفت اور سیاسی دباؤ کے تحت بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو بھارت میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ہریانہ میں شیوسینا کے رہنما نیرج سیٹھی نے صریح اعلان کیا تھا کہ بنگلا دیش کے کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں شامل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اس فیصلے سے بنگلا دیشی کرکٹ کمیونٹی میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور اس پر عالمی کرکٹ حلقوں میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا کھیل کو سیاست اور تعصب سے الگ رکھا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ آئی پی ایل دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ ہے، جہاں کھلاڑی مختلف ممالک سے آ کر حصہ لیتے ہیں۔ تاہم حالیہ پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی کشیدگی اور مقامی دباؤ کھیل کے عالمی اصولوں اور کھلاڑیوں کے حقوق پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔





