غیر قانونی مائننگ سیکنڈل،گرفتار ٹھیکیدارجسمانی ریمانڈپرنیب کے حوالے

غیر قانونی مائننگ اسکینڈل،گرفتار ٹھیکیدار جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

عدالت نے غیر قانونی مائننگ کے الزام میں گرفتار ٹھیکیدار کو 4روزہ ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو (نیب ) کے حوالے کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت میں غیر قانونی مائننگ کے الزام میں گرفتار ٹھیکیدار زرگل خان کو پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران سینئر پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر ایس پی عنایت اللہ بھی عدالت میں موجود تھے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ زرگل خان نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کاکول کے گزارہ جنگلات میں 2010 سے جولائی 2025 تک غیر قانونی مائننگ کی۔ اس دوران ایک لاکھ ایکتالیس ہزار آٹھ سو انہتر میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالی گئی، جس سے قومی خزانے کو 643.7 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔

نیب پراسیکیوٹرنے بتایاکہ تحقیقات کے دوران ملزم کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے اور اس کے نام پر ایبٹ آباد میں آٹھ پلاٹس اور تین قیمتی گاڑیاں رجسٹرڈ پائی گئیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید تفتیش کے لیے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا جائے۔

عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے زرگل خان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

زرگل خان کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت بھی کارروائی جاری ہے اور نیب کے مطابق وہ غیر قانونی مائننگ میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

Scroll to Top