وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ٹرانسمشن لائن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے اجلاس میں صوبے کے اہم بجلی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں جاری ٹرانسمشن لائن اور پن بجلی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ٹرانسمشن لائن کے جاری منصوبے کو وقت پر اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کیا جائے۔ اسی طرح، خیبرپختونخوا ڈسٹری بیوشن کمپنی سے کہا گیا کہ وہ اپنی فزیبیلٹی رپورٹ چھ ماہ کے اندر مکمل کرے اور ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ کے مسودے کو حتمی شکل دے۔
سہیل آفریدی نے پن بجلی کے جاری منصوبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اپنے منصوبوں سے پیدا شدہ بجلی صوبے کی صنعتوں کو سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے فروغ سے معاشی استحکام بڑھے گا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ چار سالوں میں جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد صوبے میں 800 میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی۔ مٹلتان پاور ہاؤس سے چکدرہ گرڈ تک 120 کلومیٹر طویل ٹرانسمشن لائن بچھائی جا رہی ہے، جس کے لاٹ ون کے 40 کلومیٹر پر کام جاری ہے۔
مزید برآں، 36 میگاواٹ درال خوڑ ہائڈرو پاور پراجیکٹ مکمل اور فعال ہے جبکہ مجموعی طور پر 224 میگاواٹ استعداد کے حامل سات منصوبے فعال ہیں۔ 84 میگاواٹ گورکن مٹلتان منصوبے پر کام 87 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ 95 میگاواٹ گبرال کالام اور 215 میگاواٹ مدین ہائڈرو پاور پراجیکٹس 2027 میں مکمل کیے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے پر غفلت یا غیر سنجیدگی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اگلے انتخابات کا نہیں بلکہ اگلی نسل کا سوچ رہی ہے۔





