تجزیہ کار ایاب احمد نے زورین خان نظامانی کے آرٹیکل کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان اور نوجوان نسل جنریشن زی کی وابستگی ختم نہیں ہوئی، بلکہ مضبوط اور پختہ ہوئی ہے۔
ایاب احمد کے مطابق حالات کے “ختم” ہونے کا دعویٰ بظاہر جرات مندانہ لگ سکتا ہے لیکن یہ نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی بصیرت جنریشن زی نے حب الوطنی نہیں چھوڑا اور نہ ہی نوجوان پاکستانی صرف ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں۔
پاکستان نے دہائیوں کی جنگیں، دہشت گردی، معاشی جھٹکے اور مسلسل خارجی دباؤ برداشت کیا کیونکہ اس کے لوگ مایوس نہیں ہوئے۔
انہوں نے لکھا کہ وہ یونیورسٹیاں جنہیں حب الوطنی کے مراکز کے طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے، وہی ادارے ہیں جہاں سے افسروں، پائلٹس، انجینئروں، تجزیہ کاروں اور منصوبہ سازوں کی تربیت ہوئی جنہوں نے ملک کا دفاع کیا۔
جدید تنازعہ صرف جذباتی نعروں یا اندھے اطاعت سے نہیں جیتا جاتا بلکہ حکمت عملی، تربیت، ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط کے ذریعے۔
ایاب احمد نے تنقید کو زوال کی دلیل کے طور پر پیش کرنے کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حالیہ معاشی استحکام اسی وقت شروع ہوئی جب عوام اور اداروں نے ناقابل دوام پالیسیوں کو چیلنج کیا، یہ شہری ذمہ داری ہے نہ کہ غداری۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل خوفزدہ یا دبائی ہوئی نہیں ہے، وہ پاکستان کے اندرونی خطرات کے خلاف فعال طور پر لڑ رہی ہے، انٹیلی جنس، انسداد انتہا پسندی، سائبر نگرانی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نوجوان افسران اور پیشہ ور نہ صرف ناظرین ہیں بلکہ فعال شرکاء ہیں اور بہت سے اپنی جانیں بھی دے چکے ہیں۔
ایاب احمد نے اس زور دیا کہ پاکستان کو دنیا بھر میں نظر انداز نہیں کیا گیا، یہ ایک سنجیدہ سیکیورٹی ریاست اور جوہری طاقت کے طور پر اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے، مضبوط ریاست کی پہچان نعروں یا عوامی تعلقات سے نہیں بلکہ دباؤ میں برداشت، صلاحیت اور ادارہ جاتی بقا سے ہوتی ہے۔
جنریشن زی ذہنی طور پر “چیک آؤٹ” نہیں ہوئی، یہ نسل اسٹارٹ اپس چلا رہی ہے، فری لانسنگ معیشت کو تقویت دے رہی ہے، وردی میں خدمات انجام دے رہی ہے، عوامی مباحثے کر رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کچھ لوگ ملک چھوڑیں گے لیکن بہت سے رہیں گے تعمیر کریں گے اور دفاع کریں گے۔
ایاب احمد نے لکھا ہے کہ حب الوطنی مر نہیں گئی بلکہ پختہ ہوئی ہے، ہیڈ فون پہننا وفاداری کو ختم نہیں کرتا اور حکام پر سوال اٹھانا وابستگی کو مٹا نہیں دیتا، آج پاکستان سے محبت کا مطلب صلاحیت کا تقاضا کرنا اور مشکلات میں مضبوط کھڑے رہنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دشمنی میں مبتلا مخصوص سیاسی عناصر کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب،نادرا نے وضاحت جاری کردی
جنریشن زی ایک متحد گروہ نہیں اور اسے ایک رائے تک محدود نہیں کیا جا سکتا، دور سے پاکستان کو دیکھنا حقیقی حالات میں جی رہے نوجوانوں کی آواز پر قبضہ نہیں دیتا، جو ختم ہو چکا ہے وہ یہ وہم ہے کہ تنقید غیر وفاداری کے برابر ہے۔ جو ختم نہیں ہوا، وہ پاکستان اور اس کی نوجوان نسل ہے۔





