اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائیوں اور صدر نیکولس میڈورو کی گرفتاری کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
اجلاس پیر کو منعقد ہوگا اور رکن ممالک وینزویلا میں امریکہ کے حالیہ اقدامات اور وہاں کی صورتحال پر غور کریں گے۔
اجلاس کولمبیا کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے، روس اور چین نے بھی اجلاس کی حمایت کی، اجلاس کا موضوع ‘بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرات’ ہوگا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امریکی مداخلت کو بین الاقوامی قانون کے تحت خطرناک مثال قرار دیا، انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا میں عبوری نگرانی کرے گا تاکہ محفوظ، درست اور مناسب عبوری مرحلہ یقینی بنایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے اسے زبردست” قرار دیا اور فوجی منصوبہ بندی و عملدرآمد کو کامیاب بتایا۔
وینزویلا کے اقوام متحدہ میں سفیر سیموئل مونکادا نے امریکی کارروائی کو ایک نوآبادیاتی جنگ قرار دیا جو ملک کے جمہوری اداروں کو ختم کرنے کے لیے کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا پر امریکی حملہ، چین کا ردعمل سامنے آ گیا
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے، جو کسی رکن ریاست کی سیاسی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی کارروائی واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہے، جس سے علاقائی استحکام اور خودمختاری پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔





