امریکہ منتقل ہونے کے انتظار میں پاکستان میں مقیم افغان باشندوں سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ

محمد اعجاز آفریدی

پاکستان میں امریکہ منتقل ہونے کے انتظار میں مقیم افغان باشندوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ حال ہی میں منعقد ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزارت خارجہ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔اس اجلاس کی کارروائی وزارت داخلہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو ارسال کردی۔

میٹنگ مینٹس کے مطابق خارجہ امور کے نمائندوں نے اجلاس کو یو ایس اسپانسرڈ افغان باشندوں سے متعلق آگاہ کیا گیا کہ وزارت خارجہ نے ان افغان شہریوں کو امریکہ منتقل کروانے کےلئے امریکی حکام سے رابطہ کیا تاہم امریکہ اس وقت ان افغان باشندوں کو اپنے ہاں آباد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اسپانسرڈ افغان باشندوں کو پاکستان میں 31 دسمبر 2025 تک قیام کی مہلت دی گئی تھی، تاہم مہلت ختم ہونے کے باوجود متعلقہ ممالک نے اس مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اسی صورتحال کے پیش نظر افغان مہاجرین سے متعلق اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے افغان باشندوں کو بھی افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان افغان باشندوں کی تعداد 19 ہزار سے زائد ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں امریکہ یا دیگر یورپی ممالک منتقل ہونے کے انتظار میں مقیم تھے۔

وزارت داخلہ نے ان افغان باشندوں کی باقاعدہ فہرستیں صوبائی حکومتوں کو پہلے ہی ارسال کر دی تھیں، جبکہ اب اس اجلاس کی کارروائی بھی تمام صوبوں کو بھجوا دی گئی ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ ان فہرستوں کی بنیاد پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں افغان باشندوں کی واپسی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ صوبے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں،دستیاب شواہد کے مطابق وزارت داخلہ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ 10 دسمبر کے بعد غیر ملکیوں کی بے دخلی کا عمل کمزور پڑ گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر معمول سے کم غیر ملکیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، جس پر حکومت پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا۔

اس موقع پر صوبوں کو ایک بار پھر ہدایت کی گئی کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا جائے اور دیگر ممالک کی جانب سے اسپانسرڈ غیر ملکیوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے،اجلاس میں غیر قانونی غیر ملکیوں بالخصوص افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بتایا گیا کہ نومبر کے دوران افغان باشندوں کی واپسی کی مجموعی رفتار تسلی بخش رہی، تاہم دسمبر کے ابتدائی دس دنوں میں یہ عمل سست روی کا شکار رہا، جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں مقیم تمام غیر قانونی افغان شہریوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی کوششیں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سابق افغان کیمپس میں رہائش پذیر تمام افغان شہریوں کو بھی بغیر کسی تاخیر کے واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو وفاقی حکومت کے غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے آئی ایف آر پی پر مکمل عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ کئی مشتبہ کیسز ایسے سامنے آئے ہیں جن کے پاس پاکستانی شناختی کارڈز موجود ہیں۔ ان معاملات کو نمٹانے کے لیے ڈسٹرکٹ لیول کمیٹیوں کو فوری فیصلے کرنے کی ہدایت جاری کی گئی، جبکہ صوبائی حکومتوں اور خصوصی علاقوں کی انتظامیہ کو کہا گیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ان کیسز کو کسی تاخیر کے بغیر نمٹائیں۔

میٹنگ میں وزارت خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ جرمنی کے ساتھ افغان شہریوں کی محدود دوبارہ آبادکاری سے متعلق معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت افغان شہریوں کو 31 دسمبر 2025 تک جرمنی منتقل ہونے کی مہلت دی گئی تھی، تاہم اس کے بعد مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔

اس کے برعکس اجلاس میں واضح کیا گیا کہ امریکہ افغان شہریوں کو اپنے ہاں بسانے کا خواہشمند نہیں، جس کے باعث امریکہ منتقلی کے خواہاں افغان شہریوں کو بھی واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسے افراد کی فہرستیں صوبائی حکومتوں اور خصوصی علاقوں کی انتظامیہ کے ساتھ پہلے ہی شیئر کی جا چکی ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطے اور ہم آہنگی کے بغیر واپسی کے عمل کو موثر نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کو یقینی بنائیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ اور یورپ میں حالیہ واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے بعد کوئی بھی ملک افغان باشندوں کو اپنے ہاں بسانے پر آمادہ نہیں، بلکہ اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت پاکستان نے بھی ان افغان شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Scroll to Top