گرین سگنل کے باوجود مذاکرات رک گئے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رکاوٹیں کون کھڑی کر رہا ہے؟جانئے

گرین سگنل کے باوجود مذاکرات رک گئے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رکاوٹیں کون کھڑی کر رہا ہے؟جانئے

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا عمل ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے، حالانکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کی سفارش پر مذاکرات کے لیے گرین سگنل دے دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کا وفد اسپیکر کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے، لیکن اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک کوئی باقاعدہ رابطہ سامنے نہیں آیا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ہوں گے، اور غیر منتخب رہنماؤں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف مکالمے اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، لیکن فی الحال پی ٹی آئی کی جانب سے سنجیدگی کا فقدان مذاکرات میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر دو مختلف دھڑے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد بیانات دے رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت کے بغیر پارٹی مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گی، اور یہی چیز مذاکرات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی استحکام اور ملکی ترقی کے لیے تمام فریقین کو لچک دکھانی ہوگی اور جمہوری طریقے سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

قبل ازیں، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات کی خواہاں ہے اور اب فیصلہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے آگے آتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور نئے 9 مئی جیسے واقعات کے لیے حالات بنا رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے ہڑتال اور سیاسی تعطل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت اور پارلیمانی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور اپوزیشن کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر مذاکرات میں حصہ لینا ہوگا تاکہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام قائم ہو سکے۔

اس پورے عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی آمادگی موجود ہے، وزیراعظم کا گرین سگنل بھی جاری ہے، لیکن پی ٹی آئی کی داخلی پیچیدگیوں اور غیر یقینی رویے کی وجہ سے مذاکرات ابھی تک ممکن نہیں ہو سکے۔ سیاسی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر جلدی مذاکرات نہ ہوئے تو ملکی سیاسی ماحول میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top