پشاور کی احتساب عدالت نے غیر قانونی مائننگ سکینڈل میں گرفتار ٹھیکیدار کو مذید تین دن کیلئے جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا۔
– غیر قانونی مائننگ سکینڈل کے الزام میں گرفتار ٹھیکیدار زرگل خان کو احتساب عدالت پشاور میں دوبارہ پیش کیا گیا جہاں دوران سماعت سینئر پراسیکیوٹر نیب حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر ایس پی عنایت اللہ بھی پیش ہوئے۔
احتساب جج حامد مغل نے ملزم کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کردیا۔
نیب کے مطابق زرگل خان نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی مائننگ کی، اور اس سرگرمی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ ملزم نے 2010 سے جولائی 2025 تک ایک لاکھ 41 ہزار 869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالا، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 643.7 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں : 3 کلو واٹ سولر سسٹم لگانے پر کتنا خرچہ آئے گا، نئی قیمتیں جانئے
مزید تحقیقات کے دوران ملزم کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے نام ایبٹ آباد میں مختلف آٹھ پلاٹس اور تین قیمتی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ 12 مرلے کا ایک پلاٹ اور مزید دو بینک اکاؤنٹس بھی ملزم کے نام نکل آئے ہیں۔ ملزم کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی بھی جاری ہے۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر مزید برقرار رکھا جائے تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیںجس پر عدالت نے اسے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔





